Leave a Comment

مدرسہ قادریہ بغداد اور عہد ایوبی کے دوسرے مدراس سے تحریک اصلاح و تجدید -

    مدرسہ قادریہ

    حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی -رح -پ ٤٧٠ھ/١٠٧٧ ع،سے منسوب یہ مدرسہ دارالخلافہ بغداد میں قائم ہوا اور اس نے تحریک اصلاح و تجدید کی باگ ڈور سنبھالی .ابن جوزی وغیرہ لکھتے ہیں کہ. 

    بغداد کے باب الازج میں ایک چھوٹا سا مدرسہ تھا ،جسے شیخ ابو سعید المخرمی -رح- نے  قائم کیا تھا.جب انہوں نے اس جہاں فانی سے رحلت فرمائی تو یہ مدرسہ ان  کے شاگرد شیخ عبدالقادرجیلانی کی تحویل میں آگیا. آپ نے اس کی توسیع اور تعمیر نو کا ارادہ کیا اور اس کے گرد واقع متعدد مکانات کو اس میں شامل کرلیا گیا. 

    حضرت شیخ نے اصلاحی مدارس کا ایک مربوط سلسلہ قائم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا جس کا مرکز مدرسہ قادریہ بغداد تھا .ان مدارس کے فارغ التحصیل حضرات نےتحریک اصلاح و تجدید اور القدس کی بازیابی کے لیے بہت کام کیا. اسطرح اس مدرسہ قادریہ  کی سرگرمیاں متعددمیدانوں پر مرکوز ہوئیں-


    ١. عمل اسلامی اور امر معروف و نہی منکر کا پیغام پھیلانے کے لیے مستقل قیادت کا فارغ التحصیل کرنا.

    ٢.تعلیم اور دعوت کے عمل کا طریق کار وضع کرنا اور اس کی منصوبہ بندی اور پروگرام مرتب کرنا .

    حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی نے یہ مدرسہ قائم کیا اور نصف صدی کی مدت تک اس کی سرگرمیوں کی قیادت کی یہاں تک کہ سارے عالم اسلام میں اس کی اشاعت اور روابط پھیل گئے. جب زنگی سلطنت قائم ہوئی تو اس مدرسہ کے فارغ التحصیل افراد اس نئی سلطنت کے ساتھ مل گئے اور چیلنجوں کا سامنا کرنے کی ذمہ داریوں میں شریک ہو گئے.

    اس سے پہلےبھی اس موضوع پر مختصر سا لکھا گیا ہے اگر سابقہ تحریر کو اس تحریر کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو فائدہ ہو گا ، دیکھیں " شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور تصوف" صدائے مسلم فورم ---http://www.sadaemuslim.com/
    یہاں یہ بات بھی بتانی ضروری ہے کہ حضرت شیخ اصلاحی پیغام برداری ،دعوت کی اشاعت اور تدریس و تربیت کے کام میں اکیلےنہیں تھے بلکہ آپ کے ساتھ آپ کے ذہین شاگردوں اور مخلص ہم عصروں کی بڑی تعداد شریک تھی. ان میں زیادہ مشہور یہ ہیں. 
    شیخ ابوالفتح بن المنی جو حضرت شیخ کے بعد شیخ الحنابلہ اور ان کے فقہاء کے مرجع بنے. انہوں نے خدمت دین کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا اور جائز سہولتوں کو ذہن سے نکال دیا،نہ گھوڑا لیا،نہ شادی کی،نہ خوبصورت لباس پہنا-انہوں نے اپنے شاگردوں میں اشیائے دنیا کی قلت اور دینی خدمت میں فنائیت  کے ضمن میں گہرے اثرات چھوڑے.

    انہی کی طرح شیخ عبدالوہاب بن شیخ عبدالقادر تھے جنہوں نے ماہرانہ ذہانت اور مؤثر اسلوب کی شہرط پائی جس سے وہ اکیس سال کی عمر میں ہی اپنے والد کے ساتھ مدرسہ میں تدریس و وعظ کے اہل قرار پائے.
    اسی طرح شیخ عبدلرزاق بن شیخ عبدالقادر تھے جو شیخ عبدالوہاب سے چھ سال چھوٹے تھے . انہوں نے فقہ و حدیث کی تدریس میں اپنے والد اور بھائی کے ساتھ شرکت کی. انہوں نے حدیث کی طرف زیادہ توجہ دی حتی کہ ذہبی نے آپکو محدث بغداد کہا. وہ کہتا ہے کہ بیدار مغزی اور تحقیق میں ان جیسا نہیں دیکھا گیا .
    اسی طرح ابو شامہ ،ذہبی اور ابن رجب آپ کی پرہیزگاری اور قناعت کی تعریف کرتے ہیں .

    حضرت شیخ کے متعدد دیگر شاگرد ہیں جو دوسرے علاقوں میں منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے مدارس اور رباط تعمیر کیے. انہوں نے وہی کردار ادا کیا جو کردار بغداد میں مدرسہ قادریہ نے ادا کیا تھا . اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل مدراس شامل ہیں.
    ١-مدرسہ عدویہ ٢- مدرسہ سہروردیہ   ٣.مدرسہ بیانیہ  ٤.مدرسہ شیخ رسلان جعبری  ٥.مدرسہ حیات بن قیس حرانی  ٦.مدرسہ شیخ عقیل منجبی   ٧ مدرسہ شیخ علی بن ہیتی  ٨. مدرسہ شیخ حسن بن مسلم   ٩. مدرسہ شیخ جوسقی   ١٠. مدرسہ شیخ عبدالرحمان طفسونجی  ١١. مدرسہ شیخ موسیٰ زولی   ١٢. مدرسہ شیخ محمد بن عبد بصری  ١٣.مدرسہ شیخ جاکیرکردی  ١٤.مدارس بطائحیہ -رفاعیہ.  ١٥.مدرسہ قیلوی  ١٦. مدرسہ شیخ ماجد کردی  ١٧. مدرسہ شیخ علی بن وہب ربیعی. ١٨ مدرسہ شیخ بقا بن بطو. ١٩ مدرسہ شیخ عثمان بن مرزوق قرشی . ٢٠.مدرسہ شیخ ابو مدین مغربی  ٢١. مدرسہ شیخ ابو السعود حریمی.  ٢٢.مدرسہ شیخ ابن مکرم نعال ٢٣. مدرسہ شیخ عمر بزاز  ٢٤. مدرسہ شیخ جبائی ( سبھی کے لیے رحم اللہ). اس کے علاوہ حضرت امام غزالی -رح-م٥٠٥ ھ/١١١١ ع مدرسہ اس تحریک تجدد کے بانیوں میں شامل ہے. 

    ٥٤٦ تا ٥٥٠ ھ (١١٥١ -١١٥٥-ع) کے درمیانی عرصہ میں مدارس اصلاح کے مابین باہمی ربط و اتصال کی تحریک جاری ہوئی جس کا مقصد یہ تھا کہ  تحریک تجدد و اصلاح کی تمام ان کوششوں کو متحد کیا جائے جن سے   باہمی تعاون کو منظم کیا جائے تاکہ بہترین مقاصد کے حصول کے لیے کام کیا جا سکے. اس سلسلہ میں متعدد اجتماعات منعقد کیے گنے جن کے تنظیمی اور نظریاتی سطح پر اہم نتائج برآمد ہوئے. تنظیمی سطح پر باہمی ربط کی کوشش،مدراس اصلاح کے لیے متحدہ قیادت کی صورت میں سامنے آئیں . اس میں پورےعالم اسلام کی سطح پر اتحاد کی صورت پیدا ہوئی. قیادت کے مذکورہ اتحاد کے مقصد کے لیے پہلا اجتماع مدرسہ قادریہ کی رباط میں منعقد ہوا . یہ رباط بغداد کے محلہ " حلہ" میں واقع تھی جہاں عراق اور بیرون عراق سے پچاس سے زیادہ شوخ حاضر ہوئے. 

    اس طرح اجتماعات ہوتے رہے اور پھر وسیع پیمانے پر اجتماع منعقد ہوا،جس میں عالم اسلام کے مختلف علاقوں سے مدراس اصلاح کی نمائندگی کرنے والی تمام بڑے شیوخ شامل ہوئے. اس اجتماع کا اہم ترین نتیجہ یہ تھا کہ ایک متحدہ قیادت عالم وجود میں آئ،جیسا کہ درج ذیل ہے.

    قطب غوث ،اس کے بعد ابدال،پھر اوتاد و اولیاء-جب ایک ابدال وفات پا جاتا تو قطب غوث اس کا متبادل متعین کر دیتے.

    اس جدید تنظیم میں حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی-رح-قطب غوث بن گئے جو" محبین صادق کے قافلہ سالار" تھے اور"علوم معارف کی ریاست " آپ کے سپرد تھی اور دس ابدال "مملکت کے خواص اور سلاطین وقت" تھے ...(الیافعی -نشر المحاسن الغالیہ -ص ١٤٢، التادفی،قلائد الجواہر ٢٤ ، الشطنونی  بہجتہ الاسرار-٩-١٠ )
    یہ ہئیت،قیادت کی تنظیم کی ہی ایک صورت ہے جس میں"قطب غوث" سردار کی ذمہ داریاں سنبھالتا ہے اور تمام فیصلے اور مشکلات اسی کے ہاں طے پاتے ہیں جبکہ ابدال اپنے مدرسوں اور علاقوں میں تبدیلیوں کے نواب ہیں اور ان کے بعد ذمہ داریوں  کے اعتبار سے اوتاد و اولیاء آتے ہیں جو روابط اور انتظامی امور کے نگران ہوتے ہیں.

    اس متحدہ قیادت کا فرض تھا کہ وہ مدارس اصلاح کی سرگرمیوں کو مربوط کرے اور ان کا رخ اشاعت زہد اور نئی نسل کی تربیت کی طرف موڑ دے  اور اس بات کا خیال رکھے کہ ان کا کردار اس عہد کے اسلامی معاشرہ کے ان امراض کے علاج کے محور کے گرد گھومتا رہے جن امراض نے چیلنجوں کے سامنے اسے کمزور کر دیا ہے اور اندرونی و بیرونی فرائض کی ادائیگی میں بے بس بنا دیا ہے.

    مدارس اصلاح کے درمیان اس اتحاد سے اہم اثرات مرتب ہوئے.

    اول. مدراس اصلاح میں عمومی وحدت عمل .
    قطب الغوث حضرت جیلانی ابدال کے ساتھ مسلسل اجتماعات کرتے رہتے تھے اور عالم اسلام کے مدارس اور رباط ،جو فیصلے اور مشکلات ان کو پیش کرتے اس پر بحث کرتے رہتے تھے.

    دوم .مختلف مدارس اور رباط،ذہین طلبہ اور ترقی پزیر مریدین ،جن کے بارے من خیال ہوتا تھا کہ مستقبل میں شیخ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں ،کو مدرسہ قادریہ میں بھیج دیتے تھے، جیسا کہ شیخ ابومدین مغربی نے اپنے ایک مرید  صالح بن ویر جان زرکالی کو بغداد بھیجا  جہاں انہوں نےحضرت جیلانی کے ہاں علوم فقہ اور سلوک زہد کی تکمیل کی. اسی طرح شیخ رسلان دمشقی کا معمول تھا کہ اپنے مریدین کو سلوک زہد اور علوم ارادہ کی تکمیل کی غرض سے مدرسہ قادریہ میں بھیجتے تھے.(الشطنونی،بہجتہ الاسرر -ص-١٠٧)

    سوم. تعلیم فقہ اور سلوک زہد کے مابین ربط کے نتیجہ میں فقہاء کی مخالفت کم ،بلکہ ختم ہو گئی اور طرفین میں تعاون شروع ہو گیا . فقہاء ،فقہ اور زہد جمع کرنے لگے اور اسے شریعت کی تکمیل کا نام دے دیا .
    چہارم.
    تصوف اپنی گوشہ نشینی سے باہرآیا جس حالت میں وہ اس سے پہلے تھا اور عالم اسلامی کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنے میں حصہ لینے لگا . سلطاں نورالدین زنگی اور بغداد ،حران ،کوہ ہکار اور دمشق کے مدارس اصلاح کے شیوخ کے درمیان رابطے مستحکم ہو گئے -بعد ازاں ان مدارس نے نورالدین  اور صلاح الدین ایوبی کے ساتھ کام کرنے کی دعوت دی. یہ تعاون جاری رہا جبکہ دونوں سلطانوں نے ان مدارس  زہد اور رباط پر غیر معمولی عنایات کیں ،ان کی جدید شاخیں قائم کیں اور ان پر اوقاف وقف کیے . دوسری طرف ان مدارس نے اپنی ذمہ داریاں اٹھائیں اور جہاد فی سبیل الله کی معنوی قیادت میں ان کا کردار نہایت فعال اور کامیاب رہا.(ماخذ -عہد ایوبی  کی نسل نو اور القدس کی بازیابی - اردو سائنس بورڈ لاہور.)

    Stay Connected To Get Free Updates!

    Subscribe via Email

    Follow us!

    0 comments:

    Post a Comment