Periclytos - Paracletos فارقلیط بمعنی احمد -ص- کی بابت تحقیق اور پادری کا فیصلہ .

And remember Jesus the son of Mary said"O children of Israel!  I am the Messenger of God(Sent) to you. Confirming the law(which came) before me. And giving glad tidings of a Messenger to come after me whose name shall be Ahmed"(61:6-- Alsaf-Alquran)

حضرت عیسیٰ -ع- نے حضرت محمد -ص-کی جو بشارت دی ہے وہ قران کریم کے مطابق اس طرح ہے." اور جب عیسیٰ بن مریم نے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس خدا کا قاصد بن کر اور مجھ سے پہلے جو تورات آئی ہے ،میں اس کی تصدیق کرتا ہوا،اور اپنے بعد "احمد" نام ایک پغمبر کی خوشخبری لے کر آیا ہوں.
Continue Reading

Scientists cast doubt on Heisenberg's uncertainty principle

Continue Reading

تصوف کے معترضین ہی مجوزیں | صدائے مسلم ﺍ فکری زاویے

Continue Reading

علامہ اقبال اور اجتہاد | صدائے مسلم ﺍ فکری زاویے

Continue Reading

مدرسہ قادریہ بغداد اور عہد ایوبی کے دوسرے مدراس سے تحریک اصلاح و تجدید -

    مدرسہ قادریہ

    حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی -رح -پ ٤٧٠ھ/١٠٧٧ ع،سے منسوب یہ مدرسہ دارالخلافہ بغداد میں قائم ہوا اور اس نے تحریک اصلاح و تجدید کی باگ ڈور سنبھالی .ابن جوزی وغیرہ لکھتے ہیں کہ. 

    بغداد کے باب الازج میں ایک چھوٹا سا مدرسہ تھا ،جسے شیخ ابو سعید المخرمی -رح- نے  قائم کیا تھا.جب انہوں نے اس جہاں فانی سے رحلت فرمائی تو یہ مدرسہ ان  کے شاگرد شیخ عبدالقادرجیلانی کی تحویل میں آگیا. آپ نے اس کی توسیع اور تعمیر نو کا ارادہ کیا اور اس کے گرد واقع متعدد مکانات کو اس میں شامل کرلیا گیا. 

    حضرت شیخ نے اصلاحی مدارس کا ایک مربوط سلسلہ قائم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا جس کا مرکز مدرسہ قادریہ بغداد تھا .ان مدارس کے فارغ التحصیل حضرات نےتحریک اصلاح و تجدید اور القدس کی بازیابی کے لیے بہت کام کیا. اسطرح اس مدرسہ قادریہ  کی سرگرمیاں متعددمیدانوں پر مرکوز ہوئیں-


    ١. عمل اسلامی اور امر معروف و نہی منکر کا پیغام پھیلانے کے لیے مستقل قیادت کا فارغ التحصیل کرنا.

    ٢.تعلیم اور دعوت کے عمل کا طریق کار وضع کرنا اور اس کی منصوبہ بندی اور پروگرام مرتب کرنا .

    حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی نے یہ مدرسہ قائم کیا اور نصف صدی کی مدت تک اس کی سرگرمیوں کی قیادت کی یہاں تک کہ سارے عالم اسلام میں اس کی اشاعت اور روابط پھیل گئے. جب زنگی سلطنت قائم ہوئی تو اس مدرسہ کے فارغ التحصیل افراد اس نئی سلطنت کے ساتھ مل گئے اور چیلنجوں کا سامنا کرنے کی ذمہ داریوں میں شریک ہو گئے.

    اس سے پہلےبھی اس موضوع پر مختصر سا لکھا گیا ہے اگر سابقہ تحریر کو اس تحریر کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو فائدہ ہو گا ، دیکھیں " شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور تصوف" صدائے مسلم فورم ---http://www.sadaemuslim.com/
    یہاں یہ بات بھی بتانی ضروری ہے کہ حضرت شیخ اصلاحی پیغام برداری ،دعوت کی اشاعت اور تدریس و تربیت کے کام میں اکیلےنہیں تھے بلکہ آپ کے ساتھ آپ کے ذہین شاگردوں اور مخلص ہم عصروں کی بڑی تعداد شریک تھی. ان میں زیادہ مشہور یہ ہیں. 
    شیخ ابوالفتح بن المنی جو حضرت شیخ کے بعد شیخ الحنابلہ اور ان کے فقہاء کے مرجع بنے. انہوں نے خدمت دین کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا اور جائز سہولتوں کو ذہن سے نکال دیا،نہ گھوڑا لیا،نہ شادی کی،نہ خوبصورت لباس پہنا-انہوں نے اپنے شاگردوں میں اشیائے دنیا کی قلت اور دینی خدمت میں فنائیت  کے ضمن میں گہرے اثرات چھوڑے.

    انہی کی طرح شیخ عبدالوہاب بن شیخ عبدالقادر تھے جنہوں نے ماہرانہ ذہانت اور مؤثر اسلوب کی شہرط پائی جس سے وہ اکیس سال کی عمر میں ہی اپنے والد کے ساتھ مدرسہ میں تدریس و وعظ کے اہل قرار پائے.
    اسی طرح شیخ عبدلرزاق بن شیخ عبدالقادر تھے جو شیخ عبدالوہاب سے چھ سال چھوٹے تھے . انہوں نے فقہ و حدیث کی تدریس میں اپنے والد اور بھائی کے ساتھ شرکت کی. انہوں نے حدیث کی طرف زیادہ توجہ دی حتی کہ ذہبی نے آپکو محدث بغداد کہا. وہ کہتا ہے کہ بیدار مغزی اور تحقیق میں ان جیسا نہیں دیکھا گیا .
    اسی طرح ابو شامہ ،ذہبی اور ابن رجب آپ کی پرہیزگاری اور قناعت کی تعریف کرتے ہیں .

    حضرت شیخ کے متعدد دیگر شاگرد ہیں جو دوسرے علاقوں میں منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے مدارس اور رباط تعمیر کیے. انہوں نے وہی کردار ادا کیا جو کردار بغداد میں مدرسہ قادریہ نے ادا کیا تھا . اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل مدراس شامل ہیں.
    ١-مدرسہ عدویہ ٢- مدرسہ سہروردیہ   ٣.مدرسہ بیانیہ  ٤.مدرسہ شیخ رسلان جعبری  ٥.مدرسہ حیات بن قیس حرانی  ٦.مدرسہ شیخ عقیل منجبی   ٧ مدرسہ شیخ علی بن ہیتی  ٨. مدرسہ شیخ حسن بن مسلم   ٩. مدرسہ شیخ جوسقی   ١٠. مدرسہ شیخ عبدالرحمان طفسونجی  ١١. مدرسہ شیخ موسیٰ زولی   ١٢. مدرسہ شیخ محمد بن عبد بصری  ١٣.مدرسہ شیخ جاکیرکردی  ١٤.مدارس بطائحیہ -رفاعیہ.  ١٥.مدرسہ قیلوی  ١٦. مدرسہ شیخ ماجد کردی  ١٧. مدرسہ شیخ علی بن وہب ربیعی. ١٨ مدرسہ شیخ بقا بن بطو. ١٩ مدرسہ شیخ عثمان بن مرزوق قرشی . ٢٠.مدرسہ شیخ ابو مدین مغربی  ٢١. مدرسہ شیخ ابو السعود حریمی.  ٢٢.مدرسہ شیخ ابن مکرم نعال ٢٣. مدرسہ شیخ عمر بزاز  ٢٤. مدرسہ شیخ جبائی ( سبھی کے لیے رحم اللہ). اس کے علاوہ حضرت امام غزالی -رح-م٥٠٥ ھ/١١١١ ع مدرسہ اس تحریک تجدد کے بانیوں میں شامل ہے. 

    ٥٤٦ تا ٥٥٠ ھ (١١٥١ -١١٥٥-ع) کے درمیانی عرصہ میں مدارس اصلاح کے مابین باہمی ربط و اتصال کی تحریک جاری ہوئی جس کا مقصد یہ تھا کہ  تحریک تجدد و اصلاح کی تمام ان کوششوں کو متحد کیا جائے جن سے   باہمی تعاون کو منظم کیا جائے تاکہ بہترین مقاصد کے حصول کے لیے کام کیا جا سکے. اس سلسلہ میں متعدد اجتماعات منعقد کیے گنے جن کے تنظیمی اور نظریاتی سطح پر اہم نتائج برآمد ہوئے. تنظیمی سطح پر باہمی ربط کی کوشش،مدراس اصلاح کے لیے متحدہ قیادت کی صورت میں سامنے آئیں . اس میں پورےعالم اسلام کی سطح پر اتحاد کی صورت پیدا ہوئی. قیادت کے مذکورہ اتحاد کے مقصد کے لیے پہلا اجتماع مدرسہ قادریہ کی رباط میں منعقد ہوا . یہ رباط بغداد کے محلہ " حلہ" میں واقع تھی جہاں عراق اور بیرون عراق سے پچاس سے زیادہ شوخ حاضر ہوئے. 

    اس طرح اجتماعات ہوتے رہے اور پھر وسیع پیمانے پر اجتماع منعقد ہوا،جس میں عالم اسلام کے مختلف علاقوں سے مدراس اصلاح کی نمائندگی کرنے والی تمام بڑے شیوخ شامل ہوئے. اس اجتماع کا اہم ترین نتیجہ یہ تھا کہ ایک متحدہ قیادت عالم وجود میں آئ،جیسا کہ درج ذیل ہے.

    قطب غوث ،اس کے بعد ابدال،پھر اوتاد و اولیاء-جب ایک ابدال وفات پا جاتا تو قطب غوث اس کا متبادل متعین کر دیتے.

    اس جدید تنظیم میں حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی-رح-قطب غوث بن گئے جو" محبین صادق کے قافلہ سالار" تھے اور"علوم معارف کی ریاست " آپ کے سپرد تھی اور دس ابدال "مملکت کے خواص اور سلاطین وقت" تھے ...(الیافعی -نشر المحاسن الغالیہ -ص ١٤٢، التادفی،قلائد الجواہر ٢٤ ، الشطنونی  بہجتہ الاسرار-٩-١٠ )
    یہ ہئیت،قیادت کی تنظیم کی ہی ایک صورت ہے جس میں"قطب غوث" سردار کی ذمہ داریاں سنبھالتا ہے اور تمام فیصلے اور مشکلات اسی کے ہاں طے پاتے ہیں جبکہ ابدال اپنے مدرسوں اور علاقوں میں تبدیلیوں کے نواب ہیں اور ان کے بعد ذمہ داریوں  کے اعتبار سے اوتاد و اولیاء آتے ہیں جو روابط اور انتظامی امور کے نگران ہوتے ہیں.

    اس متحدہ قیادت کا فرض تھا کہ وہ مدارس اصلاح کی سرگرمیوں کو مربوط کرے اور ان کا رخ اشاعت زہد اور نئی نسل کی تربیت کی طرف موڑ دے  اور اس بات کا خیال رکھے کہ ان کا کردار اس عہد کے اسلامی معاشرہ کے ان امراض کے علاج کے محور کے گرد گھومتا رہے جن امراض نے چیلنجوں کے سامنے اسے کمزور کر دیا ہے اور اندرونی و بیرونی فرائض کی ادائیگی میں بے بس بنا دیا ہے.

    مدارس اصلاح کے درمیان اس اتحاد سے اہم اثرات مرتب ہوئے.

    اول. مدراس اصلاح میں عمومی وحدت عمل .
    قطب الغوث حضرت جیلانی ابدال کے ساتھ مسلسل اجتماعات کرتے رہتے تھے اور عالم اسلام کے مدارس اور رباط ،جو فیصلے اور مشکلات ان کو پیش کرتے اس پر بحث کرتے رہتے تھے.

    دوم .مختلف مدارس اور رباط،ذہین طلبہ اور ترقی پزیر مریدین ،جن کے بارے من خیال ہوتا تھا کہ مستقبل میں شیخ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں ،کو مدرسہ قادریہ میں بھیج دیتے تھے، جیسا کہ شیخ ابومدین مغربی نے اپنے ایک مرید  صالح بن ویر جان زرکالی کو بغداد بھیجا  جہاں انہوں نےحضرت جیلانی کے ہاں علوم فقہ اور سلوک زہد کی تکمیل کی. اسی طرح شیخ رسلان دمشقی کا معمول تھا کہ اپنے مریدین کو سلوک زہد اور علوم ارادہ کی تکمیل کی غرض سے مدرسہ قادریہ میں بھیجتے تھے.(الشطنونی،بہجتہ الاسرر -ص-١٠٧)

    سوم. تعلیم فقہ اور سلوک زہد کے مابین ربط کے نتیجہ میں فقہاء کی مخالفت کم ،بلکہ ختم ہو گئی اور طرفین میں تعاون شروع ہو گیا . فقہاء ،فقہ اور زہد جمع کرنے لگے اور اسے شریعت کی تکمیل کا نام دے دیا .
    چہارم.
    تصوف اپنی گوشہ نشینی سے باہرآیا جس حالت میں وہ اس سے پہلے تھا اور عالم اسلامی کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنے میں حصہ لینے لگا . سلطاں نورالدین زنگی اور بغداد ،حران ،کوہ ہکار اور دمشق کے مدارس اصلاح کے شیوخ کے درمیان رابطے مستحکم ہو گئے -بعد ازاں ان مدارس نے نورالدین  اور صلاح الدین ایوبی کے ساتھ کام کرنے کی دعوت دی. یہ تعاون جاری رہا جبکہ دونوں سلطانوں نے ان مدارس  زہد اور رباط پر غیر معمولی عنایات کیں ،ان کی جدید شاخیں قائم کیں اور ان پر اوقاف وقف کیے . دوسری طرف ان مدارس نے اپنی ذمہ داریاں اٹھائیں اور جہاد فی سبیل الله کی معنوی قیادت میں ان کا کردار نہایت فعال اور کامیاب رہا.(ماخذ -عہد ایوبی  کی نسل نو اور القدس کی بازیابی - اردو سائنس بورڈ لاہور.)
    Continue Reading

    مسلمان اور نفسی طریقہ علاج--قسط-ا


      Continue Reading

      تفسیر ماثور،بالراۓ اور سائنسی علوم کا عمل دخل .

        تفسیر ماثور،بالرائے اور سائنسی علوم کا عمل دخل .

        پچھلی صدی عیسوی کے آخری ربع سے قرآنی تفسیر میں سائنسی انکشافات اور حوالہ جات بہت جگہ لے رہے ہیں .کچھ ایسی باتیں ہیں جن کا تفسیر  اور تعبیر و تشریح سے دور کا بھی واسطہ  نہیں ہے مگر قرآنی حقائق کو کھینچ تان کر جدید علوم سے ہم آہنگ کرنے کی سعی   لا حاصل کی جاتی ہے اور انہیں قرآنی اوراق میں لکھا جا رہا ہے ،جس سے مراد کلام اور مقاصد شریعت کو نقصان پہنچ  سکتا ہے. اس ضمن میں ڈاکٹر میاں محمد صدیقی نے
        Continue Reading

        رؤیت ہلال اور نئی قانون سازی کی ضرورت .

          ---طالب حسیں--- 
          پاکستان کے ایک صوبےخیبر پختوں خوا میں ١٩ اگست ٢٠١٢ کو جبکہ پاکستان کے دوسرے علاقوں میں مرکزیرؤیت ہلال کمیٹی کی سفارش پر ٢٠ اگست کو عید الفطر منائی گئی.  ١٨ اور ١٩ اگست کی درمیانی شب کو زونلرؤیت ہلال کمیٹی پشاور نے مرکزیرؤیت ہلال کمیٹی کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئےکہا کہ    خیبر پختوں خوا حکومت سے  اٹھارہ (١٨)شہادتوں کی بنیاد پر عید کا اعلان کرنے کی شفارش کر دی ہے . اسی صوبے سے تعلق رکھنے والے بعض دوسرے علماءاسلام کا کہنا ہے کہ یہ شہادیتیں چونکہ ٹیلیفون کے ذریعے موصول ہوئی ہیں اس لیے قابل قبول نہیں ہیں. ادھر محکمہ موسمیات کے پاکستان بھر میں قائم کردہ 51 مشاہداتی  مراکزسے عدم رؤیت کی رپورٹ دی گئی .محکمہ موسمیات کا اعلان تھا کہ پاکستان میں کہیں بھی انسانی آنکھ تو کیا مشینی آلات سے بھی چاند نظر آنا ممکن نہیں. 
          آئیں اختصار کے ساتھ  دیکھتے ہیں کہ اس بارہ میں متقدمین اور متاخرین فقہائے اسلام کیا فرماتے ہیں. اسلام میں شہادتین کے اقرار کے بعد  کچھ ارکان کے احکام سورج سے تعلق رکھتے ہیں ، کچھ کے چاند سے  اور بعض دونوں سے بھی . اسلامی تقویم  قمری مہینوں کی بنیاد پرمرتب کی جاتی ہے . شریعت اسلامیہ میں قمری مہینہ کے آغاز کے لیے بنیادی طور پر دو صورتیں ہوتی ہیں. پہلی یہ کہ مہینہ کی انتیس تاریخ کو غروب آفتاب کے بعد ہلال کی رؤیت ہو جاۓ  ،اگررؤیت نہ ہوتو دوسری صورت یہ ہے کہ جب مہینہ کے تیس دن پورے ہو جائیں تو اس کے بعد نیا مہینہ شروع ہو جاتا ہے.  
          قانونی لحاظ سے فقہاۓ اسلام رمضان کی رؤیت کو "روایت" اور دیگر مہینوں بشمول شوال اور ذوالحجہ کی رؤیت کی خبر کو "شہادت"قرار دیتے ہیں. چونکہ عمل کے لیے حاکم کاحکم ضروری ہوتا ہے اس لیے رمضان کی رؤیت کی خبر اس ایک حیثیت سے شہادت بھی ہے . "روایت " اور "شہادت " میں بنیادی فرق یہ ہے کہ روایت حجتہ ملزمہ (بائنڈنگ پروف *) نہیں ہے جبکہ شہادت (بائنڈنگ پروف) ہے .
          ظاہری طور پر مستورالحال ہو یا عادل ،روایت ہر شخص کی قابل قبول ہے ،جبکہ شہادت اس وقت قبول کی جاتی ہے جب گواہ کا قابل اعتماد ہونا ثابت ہو اور روایت کا عدالت میں قاضی کے سامنے بیان کرنا ضروری نہیں ہے لیکن شہادت کے لیے یہ ضروری ہے. 
          یہاں یہ سوال ابھرتا ہے کہ اس ضمن میں، آجکل کے سائنسی دور میں جدید علوم اور سہولیات سے مدد کیوں نہیں لی جاتی ؟ تو اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے.
          کہ ماضی میں رؤیت ہلال کے بارہ میں فقہاءکو ماہرین فلکیات کی فراہم کردہ خبر  کی قبولیت میں اس بناء پر تأمل تھا کہ سابقہ دور میں علم فلکیات بھی علم نجوم میں شامل تھا ،جس کی وجہ سے ایسے ماہرین کا " رتبہء عدالت "ساقط تصور کیا جاتا تھا .اگرچہ آج بھی اسی راۓ کو راجح تصور کیا جاتا ہے ،لیکن اگر ماہریں فلکیات رؤیت کے گواہ کے طور پر سامنے آئیں تو انکی گواہی قابل قبول ہو گی ،مگر ماہرانہ راۓ(رآی الخبیر) وہی حیثیت رکھتی ہے جو کسی معاملہ میں کسی "ماہر کی راۓ**" ہوتی ہے اور ماہرین کی آرا کو فقہاء نے بعض قیود اور شرائط کے ساتھ بہت سارے معاملات میں حجت تسلیم کیا ہے. ادھرعصرحاضر کے  فقہاء میں سے ایک گروہ نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے،چوںکہ فلکی حسابات سے علم قطعی حاصل ہوتا ہے اس لیے رؤیت ہلال کے چکر میں پڑے بغیر محض فلکی حسابات کی بنیاد پر ایک مستقل قمری کیلنڈر بنا لینا چاہیے.اس راۓ کے قائلین میں شیخ الازہر مصطفیٰ المراغی ،شیخ احمد شاکر ،شیخ مصطفیٰ الزرقاء اور شیخ علی الطنطاوی جیسے اساطین شامل ہیں  لیکن دوسری طرف فقہاء نے اس تجویز کا رد اس طرح کیا ہے  کہ فلکی حسابات کی بنا پر یقینی طور پر چاند کی "پیدائش" کے متعلق پیش گوئی تو کی جاسکتی ہے لیکن اس کے"قابل رؤیت " ہونے کے متعلق کوئی یقینی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی .اور ایسا تجویز کندہ  شریعت اسلامیہ سے واقف نہیں ہے.محض حسابات کے زریعہ اسلامی مہینوں کے اثبات سے منصوص احکام کی خلاف ورزی ہوتی ہے . مزید یہ کہ رؤیت سے مراد مجرد انسانی آنکھ سے دیکھنا ہے. دوربین اور دیگر آلات سے رؤیت اصطلاحی طور پر رؤیت نہیں کہلا سکتی کیوںکہ اس ضمن میں جتنی بھی احادیث ہیں ان میں ایک عام انسانی سطح کی رؤیت کو معیارقرار دیا گیا ہے.البتہ جو شخص نظر کی عینک استعمال کرتا ہے اس کی رؤیت قابل قبول ہوتی ہے ،کیونکہ جس شخص کی نظر عام انسانی سطح کی نظر سے کم ہو گئی ہو عینک اس کی نظر کو عام انسانی سطح پر لےآتی ہے ،جسےاضافہ تصور نہیں کیاجاتا.
          اختلاف مطالع(واحد مطلع -یعنی طلوع ہونے کی جگہ) کے اعتبار و عدم اعتبار کے بارہ میں فقہاء اگرچہ اختلاف راۓ رکھتے ہیں ،لیکن جہاں  تک اختلاف مطالع کے وجود کا تعلق ہے تو اس میں اب دو رائیں نہیں ہیں کیوں یہ بات اب  ثابت شدہ ہے کہ پوری دنیا کا ایک مطلع نہیں ہے .متقدمین میں بعض فقہاء کو اختلاف مطالع کے وجود پر شبہ تھا کیونکہ اس وقت تک علم فلکیات نے آجکل کی طرح ترقی نہیں کی تھی .تاہم متاخرین فقہاۓ اسلام نے اس کے وجود کو ایک مسلم حقیقت کے طور پر تسلیم کیا ہے.  مطلع ابر آلود اور صاف ہونے کی صورت میں  رؤیت ہلال کی خبر کے لیے فقہاء نے معیارات ،نصاب اور شروط مقرر کی ہیں  جو کہ کتب فقہ میں ملتی ہیں. 
          شرعی لحاظ سے ضروری ہے کہ مقررہ شروط اور نصاب کے مطابق  رؤیت کی شہادت مل جاۓ اور حاکم اس کے مطابق فیصلہ کر لے .تاہم اگر مقررہ نصاب اور شروط کے مطابق شہادت مل بھی جاۓ لیکن فلکی حسابات کی رو سے ماہرین کی قطعی راۓ یہ ہو کہ اس دن اس مقام پر رؤیت ناممکن تھی تو حاکم پرلازم ہو گا کہ وہ اس شہادت کو قبول نہ کرے. کیونکہ شہادت تو اس صورت میں بھی مسترد کی جا سکتی ہے جب اس میں غلطی کا احتمال ہو،جبکہ اس صورت میں اس کا غلط ہونا قطعی ہوتا ہے . 
           یہاں مرکزی  رؤیت ہلال کمیٹی اور صوبائی کمیٹیاں پاکستانی قانون کی رو سے تشکیل دی گئی ہیں  اور اس وقت یہی رمضان و عیدین اور دیگر اسلامی مہینوں کے فیصلوں کا قانونی و شرعی اختیار -ولایتہ - رکھتی ہیں. غیر سرکاری کمیٹیوں کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ سرکاری کمیٹیوں کے فیصلوں سے متصادم اپنے فیصلوں کو وہ عامتہ الناس پر نافذ کریں .(ماخذ مندرجہ ذیل فکرونظر)
          اب اس ضمن میں  ایک صوبے اور مرکز کے درمیان اختلاف راۓ پائی جاتی ہے لہذا رؤیت ہلال جیسے اہم مسلہ پرنئی قانون سازی کا مطالبہ کیا جارہا ہے .جس میں مذھبی اور سیاسی رہنما مولانا فضل الرحمٰن سر فہرست ہیں.

          مزید مطالعہ اگر ضروری ہو تو علم فلکیات ،کتب فقہ کے ساتھ ساتھ دیکھیں، محمد مشتاق احمد کے مضامین ،سہ ماہی فکر و نظر -ادارہ تحقیقات اسلامی ،اسلام آباد -دسمبر ٢٠٠٩ ،جون ٢٠١٠ ،٢٠١١- میں.
          *Binding proof  
           ** Opinion of Expert 


          Continue Reading

          صداۓ مسلم بلاگ پر کئی اور مضامین دیکھیں .

          Please see my other articles on the following links.  http://www.sadaemuslim.com/  &
          http://talibhaq-readgood.blogspot.com     http://talibhaq.blogspot.com 
                                                                                      
          Continue Reading